خانۂ امید بے نور و ضیا ہونے کو ہے
خانۂ امید بے نور و ضیا ہونے کو ہے
چشم تر سے آخری آنسو جدا ہونے کو ہے
یہ بھی اے دل اک فریب وعدۂ فردا نہ ہو
روز سنتا ہوں کوئی محشر بپا ہونے کو ہے
دور ہوں لیکن بتا سکتا ہوں ان کی بزم میں
کیا ہوا کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے کو ہے
کھل رہی ہے آنکھ اک کافر حسیں کی صبح دم
مے کشو مژدہ در مے خانہ وا ہونے کو ہے
ترک الفت کو زمانہ ہو گیا لیکن شکیلؔ
آج پھر میرا اور ان کا سامنا ہونے کو ہے
- کتاب : Kulliyat-e-Shakiil Badaayuuni (Pg. 755)
- Author : Shakiil Badaayuuni
- مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.