کھڑے ہیں دل میں جو برگ و ثمر لگائے ہوئے

احمد مشتاق

کھڑے ہیں دل میں جو برگ و ثمر لگائے ہوئے

احمد مشتاق

MORE BY احمد مشتاق

    کھڑے ہیں دل میں جو برگ و ثمر لگائے ہوئے

    تمہارے ہاتھ کے ہیں یہ شجر لگائے ہوئے

    بہت اداس ہو تم اور میں بھی بیٹھا ہوں

    گئے دنوں کی کمر سے کمر لگائے ہوئے

    ابھی سپاہ ستم خیمہ زن ہے چار طرف

    ابھی پڑے رہو زنجیر در لگائے ہوئے

    کہاں کہاں نہ گئے عالم خیال میں ہم

    نظر کسی کے در و بام پر لگائے ہوئے

    وہ شب کو چیر کے سورج نکال بھی لائے

    ہم آج تک ہیں امید سحر لگائے ہوئے

    دلوں کی آگ جلاؤ کہ ایک عمر ہوئی

    صدائے نالۂ دود و شرر لگائے ہوئے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کھڑے ہیں دل میں جو برگ و ثمر لگائے ہوئے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites