خموش بیٹھے ہو کیوں ساز بے صدا کی طرح

آتش بہاولپوری

خموش بیٹھے ہو کیوں ساز بے صدا کی طرح

آتش بہاولپوری

MORE BYآتش بہاولپوری

    خموش بیٹھے ہو کیوں ساز بے صدا کی طرح

    کوئی پیام تو دو رمز آشنا کی طرح

    کہیں تمہاری روش خار و گل پہ بار نہ ہو

    ریاض دہر سے گزرے چلو صبا کی طرح

    نیاز و عجز ہی معراج آدمیت ہیں

    بڑھاؤ دست سخاوت بھی التجا کی طرح

    جو چاہتے ہو بدلنا مزاج طوفاں کو

    تو ناخدا پہ بھروسا کرو خدا کی طرح

    مجھے ہمیشہ رہ زیست کے دوراہوں پر

    اک اجنبی ہے جو ملتا ہے آشنا کی طرح

    تمام عمر رہا سابقہ یزیدوں سے

    مرے لیے تو یہ دنیا ہے کربلا کی طرح

    امید ان سے وفا کی تو خیر کیا کیجے

    جفا بھی کرتے نہیں وہ کبھی جفا کی طرح

    یہ دہر بھی تو ہے مے خانۂ الست نما

    رہو یہاں بھی کسی رند پارسا کی طرح

    زباں پہ شکوۂ بے مہریٔ خدا کیوں ہے؟

    دعا تو مانگیے آتشؔ کبھی دعا کی طرح

    مأخذ :
    • کتاب : Jada-e-manzil (Pg. 11)
    • Author : Atish Bahawalpuri
    • مطبع : Nirali Duniya Publications (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY