باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے

آنس معین

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے

آنس معین

MORE BYآنس معین

    باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے

    دریا کے اس پار بھی گہرا سناٹا ہے

    شور تھمے تو شاید صدیاں بیت چکی ہیں

    اب تک لیکن سہما سہما سناٹا ہے

    کس سے بولوں یہ تو اک صحرا ہے جہاں پر

    میں ہوں یا پھر گونگا بہرا سناٹا ہے

    جیسے اک طوفان سے پہلے کی خاموشی

    آج مری بستی میں ایسا سناٹا ہے

    نئی سحر کی چاپ نہ جانے کب ابھرے گی

    چاروں جانب رات کا گہرا سناٹا ہے

    سوچ رہے ہو سوچو لیکن بول نہ پڑنا

    دیکھ رہے ہو شہر میں کتنا سناٹا ہے

    محو خواب ہیں ساری دیکھنے والی آنکھیں

    جاگنے والا بس اک اندھا سناٹا ہے

    ڈرنا ہے تو انجانی آواز سے ڈرنا

    یہ تو آنسؔ دیکھا بھالا سناٹا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے نعمان شوق

    مآخذ :
    • کتاب : Muallim-e-urdu(Lucknow) (Pg. 32)
    • Author : Izhar Ahmad
    • مطبع : Published by Izhar ahmad Editor,and publisher at the Shagufta printers Lucknow & Distributed simmam Publication 499/129 Hasanganj lucknow-226020 ( February-1992)
    • اشاعت :  February-1992

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY