بس گئی ہے رگ رگ میں بام و در کی خاموشی

گوتم راج رشی

بس گئی ہے رگ رگ میں بام و در کی خاموشی

گوتم راج رشی

MORE BYگوتم راج رشی

    بس گئی ہے رگ رگ میں بام و در کی خاموشی

    چیرتی سی جاتی ہے مجھ کو گھر کی خاموشی

    صبح کے ابھرنے سے شام کے اترنے تک

    کتنی جان لیوا ہے دوپہر کی خاموشی

    چل رہی تھی جب میرے گھر کے جلنے کی تفتیش

    دیکھنے کے قابل تھی شہر بھر کی خاموشی

    کاٹ لی ہیں تم نے تو ٹہنیاں سبھی لیکن

    سن سکو جو کہتی ہے چپ شجر کی خاموشی

    توڑ بھی دو چپی کو روٹھنے کو تج ڈالو

    ہو گئی ہے پربت سی بات بھر کی خاموشی

    پڑ گئی ہے عادت اب ساتھ تیرے چلنے کی

    بن ترے کٹے کیسے یہ سفر کی خاموشی

    مآخذ :
    • کتاب : Lafz Magazine-01 Dec-10 to 28 Feb-11

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY