سو لینے دو اپنا اپنا کام کرو چپ ہو جاؤ

ذوالفقار عادل

سو لینے دو اپنا اپنا کام کرو چپ ہو جاؤ

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    سو لینے دو اپنا اپنا کام کرو چپ ہو جاؤ

    دروازو کچھ وقت گزارو دیوارو چپ ہو جاؤ

    کس کشتی کی عمر ہے کتنی ملاحوں سے پوچھنے دو

    تم سے بھی پوچھیں گے اک دن دریاؤ چپ ہو جاؤ

    دیکھ لیا نا آخر مٹی مٹی میں مل جاتی ہے

    خاموشی سے اپنا اپنا حصہ لو چپ ہو جاؤ

    اس ویران سرا کی مالک ایک پرانی خاموشی

    آوازیں دیتی رہتی ہے مہمانو! چپ ہو جاؤ

    ایسا لگتا ہے ہم اپنی منزل پر آ پہنچے ہیں

    دور کہیں یہ رونے کی آواز سنو چپ ہو جاؤ

    خود کو ثابت کرنے سے بھی بڑھ جاتی ہے تنہائی

    کون سی گرہیں کھول رہے ہو سحر گرو چپ ہو جاؤ

    پیڑ پرانا ہو جاتا ہے نئے پرندے آنے سے

    بات ادھوری ہی رہتی ہے کچھ بھی کہو چپ ہو جاؤ

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY