خرابے میں بوچھار ہو کر رہے گی

سوربھ شیکھر

خرابے میں بوچھار ہو کر رہے گی

سوربھ شیکھر

MORE BYسوربھ شیکھر

    خرابے میں بوچھار ہو کر رہے گی

    گلی دل کی گلزار ہو کر رہے گی

    حکومت غموں کی نہیں چلنے والی

    مسرت کی یلغار ہو کر رہے گی

    کہ شاخوں پہ پھولوں کے گچھے تو دیکھو

    یہ بغیا ثمر دار ہو کر رہے گی

    بھرے جائیں گے غار پربت گرا کر

    یہ دھرتی تو ہموار ہو کر رہے گی

    لکیریں فقط کھینچتا جا ورق پر

    کوئی شکل تیار ہو کر رہے گی

    میں ایسا فسانہ سنانے کو ہوں اب

    کہ شب بھر تو بیدار ہو کر رہے گی

    یہ پاگل ہوا اور سفر بے کراں یہ

    جدا سر سے دستار ہو کر رہے گی

    چلاؤں گا تیشہ میں اب عاجزی کا

    انا اس کی مسمار ہو کر رہے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY