خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتا

فرخ جعفری

خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتا

فرخ جعفری

MORE BYفرخ جعفری

    خیال اس کا کہاں سے کہاں نہیں جاتا

    وہاں بھی جائے کہ جس جا گماں نہیں جاتا

    بس اپنے باغ میں محو خرام رہتا ہے

    کہ خود سے دور وہ سرو رواں نہیں جاتا

    حجاب اس کے مرے بیچ اگر نہیں کوئی

    تو کیوں یہ فاصلۂ درمیاں نہیں جاتا

    کوئی ٹھہرتا نہیں یوں تو وقت کے آگے

    مگر وہ زخم کہ جس کا نشاں نہیں جاتا

    نہ جانے اس کی زباں میں ہے کیا اثر فرخؔ

    کہ اس سے ہو کے کوئی بدگماں نہیں جاتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY