خزاں کی رت ہے جنم دن ہے اور دھواں اور پھول

صابر ظفر

خزاں کی رت ہے جنم دن ہے اور دھواں اور پھول

صابر ظفر

MORE BYصابر ظفر

    خزاں کی رت ہے جنم دن ہے اور دھواں اور پھول

    ہوا بکھیر گئی موم بتیاں اور پھول

    وہ لوگ آج خود اک داستاں کا حصہ ہیں

    جنہیں عزیز تھے قصے کہانیاں اور پھول

    یہ سب ترے مرے اظہار کی علامت ہیں

    شفق کے رنگ میں شعلہ، لہو، زباں اور پھول

    یقین کر کہ یہی ہے بجھے دلوں کا علاج

    تری وفا تری چاہت ترا گماں اور پھول

    ظفرؔ میں صورت خوشبو قیام کرتا ہوں

    سو ایک سے مجھے لگتے ہیں سب مکاں اور پھول

    مأخذ :
    • کتاب : Mazhab e Ishq (Pg. 95)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY