خود فریبی ہے دغا بازی ہے عیاری ہے
خود فریبی ہے دغا بازی ہے عیاری ہے
آج کے دور میں جینا بھی اداکاری ہے
تم جو پردیس سے آؤ تو یقیں آ جائے
اب کے برسات یہ سنتے ہیں بڑی پیاری ہے
میرے آنگن میں تو کانٹے بھی ہرے ہو نہ سکے
اس کی چھت پہ تو مہکتی ہوئی پھلواری ہے
چوڑیاں کانچ کی قاتل نہ کہیں بن جائیں
سحر انگیز بری ان کی گلوکاری ہے
کاش بجلی کوئی چمکے کوئی بادل برسے
آج کی شام زمینوں پہ بہت بھاری ہے
کھا گئی گرمئ جذبات کو رسموں کی ہوا
آج ہر شخص فقط برف کی الماری ہے
میں بھی رادھا سے کوئی کم تو نہیں ہوں شبنمؔ
سانولے رنگ کا میرا بھی تو گردھاری ہے
- کتاب : Mausam bhiigii aa.nkho.n kaa (Pg. 52)
- Author : Rafia Shabnam Abidi
- مطبع : Hassan Publications, Mumbai (1985)
- اشاعت : 1985
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.