خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی

ظہور نظر

خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی

ظہور نظر

MORE BYظہور نظر

    خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی

    میں جو مل جاتا تو اس میں آبرو اس کی بھی تھی

    زندگی اک دوسرے کو ڈھونڈنے میں کٹ گئی

    جستجو میری بھی دشمن تھی عدو اس کی بھی تھی

    میری باتوں میں بھی تلخی تھی سم تنہائی کی

    زہر تنہائی میں ڈوبی گفتگو اس کی بھی تھی

    وہ گیا تو کروٹیں لے لے کے پہلو تھک گئے

    کس طرح سوتا مرے سانسوں میں بو اس کی بھی تھی

    رات بھر آنکھوں میں اس کا مرمریں پیکر رہا

    چاندنی کے جھلملانے میں نمو اس کی بھی تھی

    گھر سے اس کا بھی نکلنا ہو گیا آخر محال

    میری رسوائی سے شہرت کو بہ کو اس کی بھی تھی

    میں ہوا خائف تو اس کے بھی اڑے ہوش و حواس

    میری جو صورت ہوئی وہ ہو بہ ہو اس کی بھی تھی

    کچھ مجھے بھی سیدھے سادھے راستوں سے بیر ہے

    کچھ بھٹک جانے کے باعث جستجو اس کی بھی تھی

    وہ جسے سارے زمانے نے کہا میرا رقیب

    میں نے اس کو ہم سفر جانا کہ تو اس کی بھی تھی

    دشت فرقت کا سفر بھی آخرش طے ہو گیا

    اور کچھ دن ساتھ دیتا آرزو اس کی بھی تھی

    بات بڑھنے کو تو بڑھ جاتی بہت لیکن نظرؔ

    میں بھی کچھ کم گو تھا چپ رہنے کی خو اس کی بھی تھی

    مأخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 72)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY