دور کیوں جاؤں یہیں جلوہ نما بیٹھا ہے

مضطر خیرآبادی

دور کیوں جاؤں یہیں جلوہ نما بیٹھا ہے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    دور کیوں جاؤں یہیں جلوہ نما بیٹھا ہے

    دل مرا عرش ہے اور اس پہ خدا بیٹھا ہے

    بت کدہ میں ترے جلوے نے تراشے پتھر

    جس نے دیکھا یہی جانا کہ خدا بیٹھا ہے

    کیا ہوئے آنکھ کے پردے جو پڑے تھے اب تک

    برملا حشر میں کیوں آج خدا بیٹھا ہے

    نقش وحدت ہی سویدا کو کہا کرتے ہیں

    دل میں اک تل ہے اور اس تل میں خدا بیٹھا ہے

    میں جو کہتا ہوں کہ کعبے کو نہ برباد کرو

    ہنس کے بت کہتے ہیں کیا دل میں خدا بیٹھا ہے

    آسماں میں تری گردش سے نہیں ڈرتا ہوں

    تجھ کو کس بات کا غم سر پہ خدا بیٹھا ہے

    چشم وحدت سے جو انسان ذرا غور کرے

    جس کو دیکھے یہی سمجھے کہ خدا بیٹھا ہے

    اپنے مرنے کا ذرا غم نہ کرو تم مضطرؔ

    یوں سمجھ لو کہ جلانے کو خدا بیٹھا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Khirman  (Part-11) (Pg. 44)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY