خلاصہ یہ مرے حالات کا ہے

سید ضمیر جعفری

خلاصہ یہ مرے حالات کا ہے

سید ضمیر جعفری

MORE BY سید ضمیر جعفری

    خلاصہ یہ مرے حالات کا ہے

    کہ اپنا سب سفر ہی رات کا ہے

    اب اک رومال میرے ساتھ کا ہے

    جو میری والدہ کے ہاتھ کا ہے

    انا کیا عجز کو گرداب سمجھو

    بڑا گہرا سمندر ذات کا ہے

    خدا اشعار رسمی سے بچائے

    یہ قتل عام سچی بات کا ہے

    تپش کتنی ہے ماں کے آنسوؤں میں

    یہ پانی کون سی برسات کا ہے

    مجھے بہتر ہے کچی قبر اپنی

    کسی گنبد سے جو خیرات کا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY