خوشی ملی تو بہت ہی اداس بیٹھے رہے

سعید قیس

خوشی ملی تو بہت ہی اداس بیٹھے رہے

سعید قیس

MORE BY سعید قیس

    خوشی ملی تو بہت ہی اداس بیٹھے رہے

    چلا گیا وہ تو ہم اس کے پاس بیٹھے رہے

    جمال یار کی لذت بیان کیا کرتے

    نظر میں شوق بدن میں ہراس بیٹھے رہے

    برہنگی ہی کچھ ایسی تھی شہر غربت کی

    قبا پہن کے بھی ہم بے لباس بیٹھے رہے

    یہ واقعہ مری آنکھوں کے سامنے کا ہے

    شراب ناچ رہی تھی گلاس بیٹھے رہے

    اسی کو حسن نظر کا کمال کہتے ہیں

    تمام شب ترے لذت شناس بیٹھے رہے

    ٹھہر ٹھہر کے وہ دریا بلا رہا تھا قیسؔ

    ہم اپنی آنکھوں میں بھر بھر کے پیاس بیٹھے رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY