خون پتوں پہ جما ہو جیسے

بشیر بدر

خون پتوں پہ جما ہو جیسے

بشیر بدر

MORE BYبشیر بدر

    خون پتوں پہ جما ہو جیسے

    پھول کا رنگ ہرا ہو جیسے

    بارہا یہ ہمیں محسوس ہوا

    درد سینے کا خدا ہو جیسے

    یوں ترس کھا کے نہ پوچھو احوال

    تیر سینے پہ لگا ہو جیسے

    پھول کی آنکھ میں شبنم کیوں ہے

    سب ہماری ہی خطا ہو جیسے

    کرچیں چبھتی ہیں بہت سینے میں

    آئنہ ٹوٹ گیا ہو جیسے

    سب ہمیں دیکھنے آتے ہیں مگر

    نیند آنکھوں سے خفا ہو جیسے

    اب چراغوں کی ضرورت بھی نہیں

    چاند اس دل میں چھپا ہو جیسے

    روز آتی تھی ہوا اس کی طرح

    اب وہ آیا تو ہوا ہو جیسے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے