خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا

محمد علوی

خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا

محمد علوی

MORE BY محمد علوی

    خواب میں ایک مکاں دیکھا تھا

    پھر نہ کھڑکی تھی نہ دروازہ تھا

    سونے رستے پہ سر شام کوئی

    گھر کی یادوں میں گھرا بیٹھا تھا

    لوگ کہتے ہیں کہ مجھ سا تھا کوئی

    وہ جو بچوں کی طرح رویا تھا

    رات تھی اور کوئی ساتھ نہ تھا

    چاند بھی دور کھڑا ہنستا تھا

    ایک میلا سا لگا تھا دل میں

    میں اکیلا ہی پھرا کرتا تھا

    ایسا ہنگامہ نہ تھا جنگل میں

    شہر میں آئے تو ڈر لگتا تھا

    غم کے دریا میں تری یادوں کا

    اک جزیرہ سا ابھر آیا تھا

    کون آیا تھا مکاں میں علویؔ

    کس نے دروازہ ابھی کھولا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY