خواب میں منظر رہ جاتا ہے

سرفراز زاہد

خواب میں منظر رہ جاتا ہے

سرفراز زاہد

MORE BYسرفراز زاہد

    خواب میں منظر رہ جاتا ہے

    تکیے پر سر رہ جاتا ہے

    آ پڑتی ہے جھیل آنکھوں میں

    ہاتھ میں پتھر رہ جاتا ہے

    روز کسی حیرت کا دھبہ

    آئینے پر رہ جاتا ہے

    دل میں بسنے والا اک دن

    جیب کے اندر رہ جاتا ہے

    ندیا پر ملنے کا وعدہ

    میز کے اوپر رہ جاتا ہے

    سال گزر جاتا ہے سارا

    اور کلینڈر رہ جاتا ہے

    آنگن کی خواہش میں کوئی

    بام کے اوپر رہ جاتا ہے

    لگ جاتی ہے ناؤ اس پار

    اور سمندر رہ جاتا ہے

    رخصت ہوتے ہوتے کوئی

    دروازے پر رہ جاتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY