خواہش و خواب کے آگے بھی کہیں جانا ہے

عظیم حیدر سید

خواہش و خواب کے آگے بھی کہیں جانا ہے

عظیم حیدر سید

MORE BYعظیم حیدر سید

    خواہش و خواب کے آگے بھی کہیں جانا ہے

    عشق کے باب سے آگے بھی کہیں جانا ہے

    کیوں نہیں چھوڑتی آخر مجھے دنیا داری

    مال و اسباب سے آگے بھی کہیں جانا ہے

    دینے والے تو مجھے نیند نہ دے خواب تو دے

    مجھ کو مہتاب سے آگے بھی کہیں جانا ہے

    جانے کیوں روک رہی ہے مجھے اشکوں کی قطار

    چشم پر آب سے آگے بھی کہیں جانا ہے

    کیوں لپٹتا ہے مرے ساتھ یہ دریا آخر

    مجھ کو گرداب سے آگے بھی کہیں جانا ہے

    مآخذ
    • کتاب : Adab-o-Saqafat International (Pg. 107)
    • Author : Shakeelsarosh
    • مطبع : Misal Publishers Raheem Center Press Market Ameen Pur Bazar, Faisalbad, Pakistan

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY