کدھر جاؤں کہیں رستا نہیں ہے

بمل کرشن اشک

کدھر جاؤں کہیں رستا نہیں ہے

بمل کرشن اشک

MORE BYبمل کرشن اشک

    کدھر جاؤں کہیں رستا نہیں ہے

    کہاں ڈوبوں کہ دل دریا نہیں ہے

    ادھر بادل کبھی برسا نہیں ہے

    جہاں تک شاخ ہے پتہ نہیں ہے

    اسے چھت پر کھڑے دیکھا تھا میں نے

    کہ جس کے گھر کا دروازہ نہیں ہے

    وہی ہے گھونسلہ چمنی کے پیچھے

    مگر چڑیوں کا وہ جوڑا نہیں ہے

    بدن کے لوچ تک آزاد ہے وہ

    اسے تہذیب نے باندھا نہیں ہے

    ترے ہونٹوں کو چھو دیکھوں تو کہیو

    مرے ہونٹوں میں کیا ایسا نہیں ہے

    بدن ڈھانپے ہوئے پھرتا ہوں یعنی

    ہوس کے نام پر دھاگا نہیں ہے

    سبھی انساں فرشتے ہو گئے ہیں

    کسی دیوار میں سایہ نہیں ہے

    میں اس درجہ معزز ہو گیا ہوں

    وہ میرے سامنے ہنستا نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY