کی نظر میں نے جب احساس کے آئینے میں

حنیف کیفی

کی نظر میں نے جب احساس کے آئینے میں

حنیف کیفی

MORE BYحنیف کیفی

    کی نظر میں نے جب احساس کے آئینے میں

    اپنا دل پایا دھڑکتا ہوا ہر سینے میں

    مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے

    پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں

    اپنے کاندھوں پہ لیے پھرتا ہوں اپنی ہی صلیب

    خود مری موت کا ماتم ہے مرے جینے میں

    اپنے انداز سے اندازہ لگایا سب نے

    مجھ کو یاروں نے غلط کر لیا تخمینے میں

    اپنی جانب نہیں اب لوٹنا ممکن میرا

    ڈھل گیا ہوں میں سراپا ترے آئینے میں

    ایک لمحے کو ہی آ جائے میسر کیفیؔ

    وہ نظر جو مجھے دیکھے مرے آئینے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY