کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتا

احمد مشتاق

کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتا

احمد مشتاق

MORE BY احمد مشتاق

    کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتا

    اک خواب محبت ہے کہ بوڑھا نہیں ہوتا

    وہ وقت بھی آتا ہے جب آنکھوں میں ہماری

    پھرتی ہیں وہ شکلیں جنہیں دیکھا نہیں ہوتا

    بارش وہ برستی ہے کہ بھر جاتے ہیں جل تھل

    دیکھو تو کہیں ابر کا ٹکڑا نہیں ہوتا

    گھر جاتا ہے دل درد کی ہر بند گلی میں

    چاہو کہ نکل جائیں تو رستہ نہیں ہوتا

    یادوں پہ بھی جم جاتی ہے جب گرد زمانہ

    ملتا ہے وہ پیغام کہ پہنچا نہیں ہوتا

    تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سے

    لیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا

    کیا اس سے گلہ کیجیئے بربادئ دل کا

    ہم سے بھی تو اظہار تمنا نہیں ہوتا

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY