کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتا

مرزارضا برق ؔ

کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتا

مرزارضا برق ؔ

MORE BY مرزارضا برق ؔ

    کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتا

    ہم جا نہیں سکتے انہیں آنا نہیں ملتا

    پھرتے ہیں وہاں آپ بھٹکتی ہے یہاں روح

    اب گور میں بھی ہم کو ٹھکانا نہیں ملتا

    بدنام کیا ہے تن انور کی صفا نے

    دل میں بھی اسے راز چھپانا نہیں ملتا

    دولت نہیں کام آتی جو تقدیر بری ہو

    قارون کو بھی اپنا خزانا نہیں ملتا

    آنکھیں وہ دکھاتے ہیں نکل جائے اگر بات

    بوسہ تو کہاں ہونٹ ہلانا نہیں ملتا

    طاقت وہ کہاں جائیں تصور میں جو اے برقؔ

    برسوں سے ہمیں ہوش میں آنا نہیں ملتا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    کس طرح ملیں کوئی بہانا نہیں ملتا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY