کس توقع پہ کیا اٹھا رکھیے
دل سلامت نہیں تو کیا رکھیے
لکھیے کچھ اور داستان دل
اور زمانہ کو مبتلا رکھیے
سر میں سودا رہے محبت کا
پاؤں میں خاک کی انا رکھیے
بوند بھر آب کیا مقدر ہے
ابر رکھیے تو کچھ ہوا رکھیے
اس سے پہلے کوئی جلانے آئے
آپ اپنا ہی گھر جلا رکھیے
قبل انصاف چل بسا ملزم
اب عدالت سے کیا روا رکھیے
جان جانی ہے جب عبث ہی ہمیشؔ
پھر تو دنیا سے فاصلہ رکھیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.