Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کسی کے منتظر رہنا نہ دروازہ کھلا رکھنا

دیپک پرجاپتی خالص

کسی کے منتظر رہنا نہ دروازہ کھلا رکھنا

دیپک پرجاپتی خالص

MORE BYدیپک پرجاپتی خالص

    کسی کے منتظر رہنا نہ دروازہ کھلا رکھنا

    ہمیں آیا نہیں دل کو محبت میں لگا رکھنا

    یہ کرب و درد ہی دراصل ہے درکار جینے میں

    سو ان کو چاہیے دن رات پلکوں پہ سجا رکھنا

    خدا جانے فقیروں میں یہ فن کس طرح آتا ہے

    کوئی بھی سانحہ گزرے مگر چہرہ کھلا رکھنا

    امیر شہر کے لوگوں میں اک یہ بھی روایت ہے

    بہت میلا بدن رکھنا بہت اجلی قبا رکھنا

    غضب کا مشورہ دے کر ہے وہ اب تک غضب شاعر

    بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا

    مرے سائے مرے نقش قدم پر مت چلا کر تو

    امید رہبری بھٹکے ہوئے لوگوں سے کیا رکھنا

    خفا رہنے سے اس درجہ نکھار آیا ہے غزلوں میں

    کہ اب تو چاہتا ہوں عمر بھر خود کو خفا رکھنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 13-14-15 December 2024 - Jawaharlal Nehru Stadium , Gate No. 1, New Delhi

    Get Tickets
    بولیے