کسی کے واسطے کیا کیا ہمیں دکھ جھیلنے ہوں گے

امداد ہمدانی

کسی کے واسطے کیا کیا ہمیں دکھ جھیلنے ہوں گے

امداد ہمدانی

MORE BYامداد ہمدانی

    کسی کے واسطے کیا کیا ہمیں دکھ جھیلنے ہوں گے

    شبوں کو جاگنا ہوگا کڑے دن کاٹنے ہوں گے

    تری سنگیں فصیلوں کو تو جنبش تک نہیں آئی

    ہوائیں لے اڑیں جن کو وہ اپنے جھونپڑے ہوں گے

    بھنور تک تو کوئی آیا نہیں میرے لئے لیکن

    میں بچ نکلا تو ساحل پر کئی بازو کھلے ہوں گے

    خزاں کا زہر سارے شہر کی رگ رگ میں اترا ہے

    گلی کوچوں میں اب تو زرد چہرے دیکھنے ہوں گے

    ہمیں دنیا کی گردش یہ تماشہ بھی دکھائے گی

    گھروں میں تیرگی ہوگی منڈیروں پر دئیے ہوں گے

    کوئی دولت نہیں امدادؔ اپنے دست و دامن میں

    فقط یادوں کے سکے دل تجوری میں رکھے ہوں گے

    مآخذ:

    • کتاب : Khayaabaan (Pg. 130)
    • Author : Hassan Abbas Raza
    • مطبع : Bazm-e-Khayaabaan-e-adab, Pakistan

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY