کسی کے زخم پر اشکوں کا پھاہا رکھ دیا جائے

رضا مورانوی

کسی کے زخم پر اشکوں کا پھاہا رکھ دیا جائے

رضا مورانوی

MORE BY رضا مورانوی

    کسی کے زخم پر اشکوں کا پھاہا رکھ دیا جائے

    چلو سورج کے سر پر تھوڑا سایہ رکھ دیا جائے

    مرے مالک سر شاخ شجر اک پھول کی مانند

    مری بے داغ پیشانی پہ سجدہ رکھ دیا جائے

    گنہ گاروں نے سوچا ہے مسلسل نیکیاں کر کے

    شب ظلمت کے سینے پر اجالا رکھ دیا جائے

    تن بے سر ہوں میرے سائے میں اب کون بیٹھے گا

    درختوں میں مرے حصے کا سایہ رکھ دیا جائے

    بلاتے ہیں ہمیں محنت کشوں کے ہاتھ کے چھالے

    چلو محتاج کے منہ میں نوالہ رکھ دیا جائے

    دعائیں مانگتے ہیں وہ ہمارے رزق کی خاطر

    فقیروں کے لئے تھوڑا سا آٹا رکھ دیا جائے

    مجھے چلنے نہیں دیں گے یہ میرے پاؤں کے چھالے

    مرے تلووں کے نیچے کوئی کانٹا رکھ دیا جائے

    رواجوں کی وہ کثرت ہے کہ دم گھٹنے لگا اپنا

    اٹھا کر اب رضاؔ پارینہ قصہ رکھ دیا جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY