کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھے

فیصل عجمی

کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھے

فیصل عجمی

MORE BY فیصل عجمی

    کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھے

    اٹھا کے اگلے زمانے میں رکھ لیا ہے مجھے

    وہ مجھ سے اپنے تحفظ کی بھیک لے کے گیا

    اور اب اسی نے نشانے میں رکھ لیا ہے مجھے

    میں کھیل ہار چکا ہوں تری شراکت میں

    کہ تو نے مات کے خانے میں رکھ لیا ہے مجھے

    مرے وجود کی شاید یہی حقیقت ہے

    کہ اس نے اپنے فسانے میں رکھ لیا ہے مجھے

    شجر سے بچھڑا ہوا برگ خشک ہوں فیصلؔ

    ہوا نے اپنے گھرانے میں رکھ لیا ہے مجھے

    مآخذ:

    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 10.10.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY