کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں

افتخار مغل

کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں

افتخار مغل

MORE BY افتخار مغل

    کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں

    تو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میں

    میں تم کو خود سے جدا کر کے کس طرح دیکھوں

    کہ میں بھی ''تم'' ہوں، کوئی دوسرا نہیں ہوں میں

    تو یہ بھی طے! کہ بچھڑ کر بھی لوگ جیتے ہیں

    میں جی رہا ہوں! اگرچہ جیا نہیں ہوں میں

    کسی میں کوئی بڑا پن مجھے دکھائی نہ دے

    خدا کا شکر کہ اتنا بڑا نہیں ہوں میں

    مری اٹھان کی ہر اینٹ میں نے رکھی ہے

    میں خود بنا ہوں! بنایا ہوا نہیں ہوں میں

    یہاں جو آئے گا وہ خود کو ہار جائے گا

    قمار خانۂ جاں میں نیا نہیں ہوں میں

    مرے وجود کے اندر مجھے تلاش نہ کر

    کہ اس مکان میں اکثر رہا نہیں ہوں میں

    میں ایک عمر سے خود کو تلاشتا ہوں مگر

    مجھے یقین نہیں، ہوں بھی یا نہیں ہوں میں

    میں اک گمان کا امکاں ہوں افتخارؔ مغل

    کہ ہو تو سکتا ہوں لیکن ہوا نہیں ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY