کتنے تفکرات سے آزاد ہو گیا

خالد صدیقی

کتنے تفکرات سے آزاد ہو گیا

خالد صدیقی

MORE BY خالد صدیقی

    کتنے تفکرات سے آزاد ہو گیا

    وہ آدمی جو اینٹ پہ سر رکھ کے سو گیا

    سورج ڈھلا تو طاق میں جلتا ہوا دیا

    تاریکیوں سے بر سر پیکار ہو گیا

    اپنی غلاظتیں تھیں کہ از راہ التفات

    سیلاب شہر کے در و دیوار دھو گیا

    اک دوست سے یہاں بھی ملاقات ہو گئی

    رہنا یہاں بھی اب مرا دشوار ہو گیا

    اک اور کھیت پکی سڑک نے نگل لیا

    اک اور گاؤں شہر کی وسعت میں کھو گیا

    خالدؔ مجھے تو اچھی طرح یاد بھی نہیں

    وہ حادثہ جو کل مری پلکیں بھگو گیا

    مآخذ:

    • کتاب : Funoon (Monthly) (Pg. 394)
    • Author : Ahmad Nadeem Qasmi
    • مطبع : 4 Maklood Road, Lahore (Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23)
    • اشاعت : Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY