کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں

الطاف حسین حالی

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں

الطاف حسین حالی

MORE BYالطاف حسین حالی

    کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں

    مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں

    قفس میں جی نہیں لگتا کسی طرح

    لگا دو آگ کوئی آشیاں میں

    کوئی دن بوالہوس بھی شاد ہو لیں

    دھرا کیا ہے اشارات نہاں میں

    کہیں انجام آ پہنچا وفا کا

    گھلا جاتا ہوں اب کے امتحاں میں

    نیا ہے لیجئے جب نام اس کا

    بہت وسعت ہے میری داستاں میں

    دل پر درد سے کچھ کام لوں گا

    اگر فرصت ملی مجھ کو جہاں میں

    بہت جی خوش ہوا حالیؔ سے مل کر

    ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY