کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے

محمد علوی

کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے

    دن کہاں اتنے کڑے لگتے تھے

    خوش تو پہلے بھی نہیں تھے لیکن

    یوں نہ اندر سے بجھے لگتے تھے

    روز کے دیکھے ہوئے منظر تھے

    پھر بھی ہر روز نئے لگتے تھے

    ان دنوں گھر سے عجب رشتہ تھا

    سارے دروازے گلے لگتے تھے

    رہ سمجھتی تھیں اندھیری گلیاں

    لوگ پہچانے ہوئے لگتے تھے

    جھیلیں پانی سے بھری رہتی تھیں

    سب کے سب پیڑ ہرے لگتے تھے

    شہر تھے اونچی فصیلوں والے

    ڈر زمانے کے پرے لگتے تھے

    باندھ رکھا تھا زمیں نے علویؔ

    ہم مگر پھر بھی اڑے لگتے تھے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    محمد علوی

    محمد علوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY