کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں

حبیب جالب

کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں

حبیب جالب

MORE BYحبیب جالب

    کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں

    بیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیں

    چہرے جو کبھی ہم کو دکھائی نہیں دیں گے

    آ آ کے تصور میں نہ تڑپائیں تو سوئیں

    برسات کی رت کے وہ طرب ریز مناظر

    سینے میں نہ اک آگ سی بھڑکائیں تو سوئیں

    صبحوں کے مقدر کو جگاتے ہوئے مکھڑے

    آنچل جو نگاہوں میں نہ لہرائیں تو سوئیں

    محسوس یہ ہوتا ہے ابھی جاگ رہے ہیں

    لاہور کے سب یار بھی سو جائیں تو سوئیں

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-habib jaalib (Pg. 262)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY