کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں

ناصر کاظمی

کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں

ناصر کاظمی

MORE BYناصر کاظمی

    کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں

    آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں

    یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر

    سر پر خیال یار کی چادر ہی لے چلیں

    رنج سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو

    تھوڑی سی خاک کوچۂ دلبر ہی لے چلیں

    یہ کہہ کے چھیڑتی ہے ہمیں دل گرفتگی

    گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں

    اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں

    آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY