کچھ یقیں سا گمان سا کچھ ہے

شاہد کمال

کچھ یقیں سا گمان سا کچھ ہے

شاہد کمال

MORE BYشاہد کمال

    کچھ یقیں سا گمان سا کچھ ہے

    جو بھی ہے میری جان سا کچھ ہے

    فاصلے ختم ہو گئے لیکن

    پھر بھی اک درمیان سا کچھ ہے

    ہم یہیں پر قیام کرتے ہیں

    اس کھنڈر میں مکان سا کچھ ہے

    ہاتھ میں ہے مہار ناقۂ خاک

    سر پہ اک سائبان سا کچھ ہے

    دشت جاں میں وہ خاک اڑاتا ہوا

    اب بھی اک کاروان سا کچھ ہے

    کھل گئے اس کی نصرتوں کے علم

    وہ ہوا میں نشان سا کچھ ہے

    دیکھ نیزے کی اس بلندی پر

    یہ کوئی آسمان سا کچھ ہے

    ریت پر وہ پڑی ہے مشک کوئی

    تیر بھی اور کمان سا کچھ ہے

    دیکھ انداز بے زبانیٔ گل

    اپنا طرز بیان سا کچھ ہے

    چل کے اس کی گلی میں دیکھتے ہیں

    شور آشفتگان سا کچھ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے