کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے

حفیظ جالندھری

کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے

حفیظ جالندھری

MORE BY حفیظ جالندھری

    کیوں ہجر کے شکوے کرتا ہے کیوں درد کے رونے روتا ہے

    اب عشق کیا تو صبر بھی کر اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے

    آغاز مصیبت ہوتا ہے اپنے ہی دل کی شامت سے

    آنکھوں میں پھول کھلاتا ہے تلووں میں کانٹے بوتا ہے

    احباب کا شکوہ کیا کیجئے خود ظاہر و باطن ایک نہیں

    لب اوپر اوپر ہنستے ہیں دل اندر اندر روتا ہے

    ملاحوں کو الزام نہ دو تم ساحل والے کیا جانو

    یہ طوفاں کون اٹھاتا ہے یہ کشتی کون ڈبوتا ہے

    کیا جانیے یہ کیا کھوئے گا کیا جانئے یہ کیا پائے گا

    مندر کا پجاری جاگتا ہے مسجد کا نمازی سوتا ہے

    خیرات کی جنت ٹھکرا دے ہے شان یہی خودداری کی

    جنت سے نکالا تھا جس کو تو اس آدم کا پوتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY