کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا

آرزو لکھنوی

کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا

آرزو لکھنوی

MORE BYآرزو لکھنوی

    کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا

    موج دریا خود لگا لیتی ہے ساحل کا پتا

    ہے نشان لیلیٰ مقصود محمل کا پتا

    دل ربا ہاتھ آ گیا پایا جہاں دل کا پتا

    راہ الفت میں سمجھ لو دل کو گونگا رہ نما

    ساتھ ہے اور دے نہیں سکتا ہے منزل کا پتا

    کہتا ہے ناصح کہ واپس جاؤ اور میں سادہ لوح

    پوچھتا ہوں خود اسی سے کوئے قاتل کا پتا

    راہبر رہزن نہ بن جائے کہیں اس سوچ میں

    چپ کھڑا ہوں بھول کر رستے میں منزل کا پتا

    آئی اک آواز تیر اور نکلی دل سے اف

    پھر نہ قاتل کا نشاں پایا نہ بسمل کا پتا

    بانکی چتون والے محشر میں ہزاروں ہیں تو ہوں

    مل ہی جائے گا کسی صورت سے قاتل کا پتا

    اس جگہ بسمل نے دم توڑا جہاں کی خاک تھی

    یوں لگاتے ہیں لگانے والے منزل کا پتا

    پوچھنے والے نے یہ پوچھا کہ کیوں بیدل ہو کیوں

    اور مجھ کو مل گیا کھوئے ہوئے دل کا پتا

    موجیں ٹکرائی ہوئیں دشمن بھی نکلیں دوست بھی

    پیچھے کشتی کو ڈھکیلا دے کے ساحل کا پتا

    رہ گیا ہے ٹوٹ کر زخم جگر میں تیر ناز

    اب لگا لینا نہیں دشوار قاتل کا پتا

    سوختہ پروانے کشتہ شمع فرش داغ دار

    دے رہے ہیں رات کی گرمئ محفل کا پتا

    میں وفا کیش آرزوؔ اور وہ وفا نا آشنا

    پڑ گیا مشکل میں پا کر اپنی مشکل کا پتا

    RECITATIONS

    آرزو لکھنوی

    آرزو لکھنوی

    آرزو لکھنوی

    کیوں کسی رہرو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا آرزو لکھنوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY