کیوں نہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ اتراتی ہوا

عابد مناوری

کیوں نہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ اتراتی ہوا

عابد مناوری

MORE BY عابد مناوری

    کیوں نہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ اتراتی ہوا

    پھول جیسے اک بدن کو چھو کر آئی تھی ہوا

    یوں خیال آتا ہے اس کا یاد آئے جس طرح

    گرمیوں کی دوپہر میں شام کی ٹھنڈی ہوا

    اور ابھی سلگیں گے ہم کمرے کے آتش دان میں

    اور ابھی کہسار سے اترے گی برفیلی ہوا

    ہم بھی اک جھونکے سے لطف اندوز ہو لیتے کبھی

    بھولے بھٹکے اس گلی میں بھی چلی آتی ہوا

    ایک زہریلا دھواں بکھرا گئی چاروں طرف

    سب کو اندھا کر گئی ایسی چلی اندھی ہوا

    اس نے لکھ بھیجا ہے یہ پیپل کے پتے پر مجھے

    کیا تجھے راس آ گئی بجلی کے پنکھے کی ہوا

    کیوں کر اے عابدؔ بجھا پاتا میں اپنی تشنگی

    مجھ تک آنے ہی سے پہلے ہو گیا پانی ہوا

    مآخذ:

    • کتاب : Tahreek Silver Jubilee Number (Pg. 433)
    • Author : Gopal Mittal, Makhmoor Saeedi, Prem Gopal Mittal
    • مطبع : Monthly Tahreek, 9, Ansari Market, Daryaganj, New Delhi-110002 (July, Aug., Sep. Oct. 1978,Volume No. 26,Issue No. 4,5,6,7,)
    • اشاعت : July, Aug., Sep. Oct. 1978,Volume No. 26,Issue No. 4,5,6,7,

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY