لائق دید وہ نظارا تھا

مظفر حنفی

لائق دید وہ نظارا تھا

مظفر حنفی

MORE BYمظفر حنفی

    لائق دید وہ نظارا تھا

    لاکھ نیزے تھے سر ہمارا تھا

    ایک آندھی سی کیوں بدن میں ہے

    اس نے شاید ہمیں پکارا تھا

    شکریہ ریشمی دلاسے کا

    تیر تو آپ نے بھی مارا تھا

    بادباں سے الجھ گیا لنگر

    اور دو ہاتھ پر کنارا تھا

    صاحبو بات دسترس کی تھی

    ایک جگنو تھا اک ستارا تھا

    آسماں بوجھ ہی کچھ ایسا ہے

    سر جھکانا کسے گوارا تھا

    اب نمک تک نہیں ہے زخموں پر

    دوستوں سے بڑا سہارا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے