لفظ آتے ہیں اور جاتے ہیں

ساجد پریمی

لفظ آتے ہیں اور جاتے ہیں

ساجد پریمی

MORE BYساجد پریمی

    لفظ آتے ہیں اور جاتے ہیں

    پھول ہونٹوں کے تھرتھراتے ہیں

    پھول ہی پھول یاد آتے ہیں

    آپ جب جب بھی مسکراتے ہیں

    آپ جا کر ہوا سے کہہ دیجے

    پھول پتے بھی گنگناتے ہیں

    دھوپ بیٹھی رہی منڈیروں پر

    اور کچھ پنچھی چہچہاتے ہیں

    مسکراہٹ کھلی ہے چہرے پر

    اشک آنکھوں میں جھلملاتے ہیں

    ان نگاہوں کے لکچھ پر میں ہوں

    زخم لے کر کے تیر آتے ہیں

    ایسے تیراک ہم نہیں ساجدؔ

    خوف گہرائیوں سے کھاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY