لفظ جب کوئی نہ ہاتھ آیا معانی کے لیے

سجاد باقر رضوی

لفظ جب کوئی نہ ہاتھ آیا معانی کے لیے

سجاد باقر رضوی

MORE BY سجاد باقر رضوی

    لفظ جب کوئی نہ ہاتھ آیا معانی کے لیے

    کیا مزے ہم نے زبان بے زبانی کے لیے

    یہ دوراہا ہے چلو تم رنگ و بو کی کھوج میں

    ہم چلے صحرائے دل کی باغبانی کے لیے

    زندگی اپنی تھی گویا لمحۂ فرقت کا طول

    کچھ مزے ہم نے بھی عمر جاودانی کے لیے

    میں بھلا ٹھنڈی ہوا سے کیا الجھتا چپ رہا

    پھول کی خوش بو بہت تھی سرگرانی کے لیے

    ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر

    وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے

    راکھ ارمانوں کی گیلی لکڑیاں احساس کی

    ہم کو یہ ساماں ملے شعلہ بیانی کے لیے

    شمع ہو فانوس سے باہر تو گل ہو جائے گی

    بندش الفاظ مت توڑو معانی کے لیے

    دو کنارے ہوں تو سیل زندگی دریا بنے

    ایک حد لازم ہے پانی کی روانی کے لیے

    آج کیوں چپ چپ ہو باقرؔ تم کبھی مشہور تھے

    دوستوں یاروں میں اپنی خوش بیانی کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY