لوگ یک رنگئی وحشت سے بھی اکتائے ہیں

راہی معصوم رضا

لوگ یک رنگئی وحشت سے بھی اکتائے ہیں

راہی معصوم رضا

MORE BYراہی معصوم رضا

    لوگ یک رنگئی وحشت سے بھی اکتائے ہیں

    ہم بیاباں سے یہی ایک خبر لائے ہیں

    پیاس بنیاد ہے جینے کی بجھا لیں کیسے

    ہم نے یہ خواب نہ دیکھے ہیں نہ دکھلائے ہیں

    ہم تھکے ہارے ہیں اے عزم سفر ہم کو سنبھال

    کہیں سایہ جو نظر آیا ہے گھبرائے ہیں

    زندگی ڈھونڈھ لے تو بھی کسی دیوانے کو

    اس کے گیسو تو مرے پیار نے سلجھائے ہیں

    یاد جس چیز کو کہتے ہیں وہ پرچھائیں ہے

    اور سائے بھی کسی شخص کے ہاتھ آئے ہیں

    ہاں انہیں لوگوں سے دنیا میں شکایت ہے ہمیں

    ہاں وہی لوگ جو اکثر ہمیں یاد آئے ہیں

    اس بیابان در و بام میں کیا رکھا ہے

    ہم ہی دیوانے ہیں صحرا سے چلے آئے ہیں

    مآخذ :
    • کتاب : ajnabi-shahr-ajnabi-raaste(rekhta website) (Pg. 207)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY