لوگو ہم چھان چکے جا کے سمندر سارے

بشیر فاروقی

لوگو ہم چھان چکے جا کے سمندر سارے

بشیر فاروقی

MORE BYبشیر فاروقی

    لوگو ہم چھان چکے جا کے سمندر سارے

    اس نے مٹھی میں چھپا رکھے ہیں گوہر سارے

    زخم دل جاگ اٹھے پھر وہی دن یار آئے

    پھر تصور پہ ابھر آئے وہ منظر سارے

    تشنگی میری عجب ریت کا منظر نکلی

    میرے ہونٹوں پہ ہوئے خشک سمندر سارے

    اس کو غمگین جو پایا تو میں کچھ کہہ نہ سکا

    بجھ گئے میرے دہکتے ہوئے تیور سارے

    آگہی کرب وفا صبر تمنا احساس

    میرے ہی سینے میں اترے ہیں یہ خنجر سارے

    دوستو تم نے جو پھینکے تھے مرے آنگن میں

    لگ گئے گھر کی فصیلوں میں وہ پتھر سارے

    خون دل اور نہیں رنگ حنا اور نہیں

    ایک ہی رنگ میں ہیں شہر کے منظر سارے

    قتل گہہ میں یہ چراغاں ہے مرے دم سے بشیرؔ

    مجھ کو دیکھا تو چمکنے لگے خنجر سارے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY