لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کا

قربان علی سالک بیگ

لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کا

قربان علی سالک بیگ

MORE BYقربان علی سالک بیگ

    لطف میں واں ڈھنگ ہے بیداد کا

    کام دے اے خامشی فریاد کا

    کیوں کہ لے تصویر اس کی دیکھیے

    ہاتھ قابو میں نہیں بہزاد کا

    عمر بھر رکھتا ہے پابند کمیں

    صید خود اک دام ہے صیاد کا

    دعویٔ باطل کی پرسش رہ گئی

    کون پرساں حسرت شداد کا

    دور تک اپنی نگاہیں ہیں رسا

    پردہ حائل گر نہ ہو ایجاد کا

    کون یاں قید تعلق میں نہیں

    پا بہ گل ہے سرو سے آزاد کا

    دل میں جب آئے کہ اس نے سن لیا

    نارسا کیوں نام ہے فریاد کا

    آپ ہی گردش سے ہے مجبور چرخ

    چاہنا ایسے سے کیا امداد کا

    دیکھیے کثرت سے وحدت کو تو ہے

    ایک جلوہ موجد و ایجاد کا

    کوہ کن نے عمر بھر کاٹا پہاڑ

    میں ہوں جویا چرخ کی بنیاد کا

    بچ گیا تیر نگاہ یار سے

    واقعی آئینہ ہے فولاد کا

    بھولا ہے دین و دنیا آدمی

    خاصہ ہے یہ بتوں کی یاد کا

    پہلے نفغ صور سے آ جاؤں یاں

    شک نہ ہو تم کو مری فریاد کا

    ضربت تیشہ تھی پتھر کی لکیر

    نام مٹتا ہی نہیں فرہاد کا

    خود اڑا جاتا ہوں سالکؔ ضعف سے

    آہ میں طوفاں ہے قوم‌ عاد کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے