مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے

اقبال عظیم

مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے

اقبال عظیم

MORE BY اقبال عظیم

    مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے

    اس زندگی کو ہم نے بہت کچھ دیا بھی ہے

    محسوس ہو رہا ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں

    شاید کہیں قریب کوئی دوسرا بھی ہے

    قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں

    اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے

    غرقاب کر دیا تھا ہمیں ناخداؤں نے

    وہ تو کہو کہ ایک ہمارا خدا بھی ہے

    ہو تو رہی ہے کوشش آرائش چمن

    لیکن چمن غریب میں اب کچھ رہا بھی ہے

    اے قافلے کے لوگو ذرا جاگتے رہو

    سنتے ہیں قافلے میں کوئی رہنما بھی ہے

    ہم پھر بھی اپنے چہرے نہ دیکھیں تو کیا علاج

    آنکھیں بھی ہیں چراغ بھی ہے آئنا بھی ہے

    اقبالؔ شکر بھیجو کہ تم دیدہ ور نہیں

    دیدہ وروں کو آج کوئی پوچھتا بھی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    RECITATIONS

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    مانا کہ زندگی سے ہمیں کچھ ملا بھی ہے اقبال عظیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY