محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے

تعشق لکھنوی

محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے

تعشق لکھنوی

MORE BY تعشق لکھنوی

    محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے

    سب پھول ترے باغ تھے اک خار ہمیں تھے

    ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی

    سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے

    سودا تری زلفوں کا گیا ساتھ ہمارے

    مر کر بھی نہ چھوٹے وہ گرفتار ہمیں تھے

    کل رات کو دیکھا تھا جسے خواب میں تم نے

    رخسار پہ رکھے ہوئے رخسار ہمیں تھے

    دل سوختہ تھے چاہنے والوں میں تمہارے

    لیکن سبب گرمئ بازار ہمیں تھے

    کل کوچۂ قاتل میں جو تھا خلق کا مجمع

    کھائے ہوئے اس ہاتھ کی تلوار ہمیں تھے

    اے عشق مژہ کون ہمیں دیکھنے آتا

    آنکھوں میں کھٹکتے تھے وہ بیمار ہمیں تھے

    تربت میں بھی آنکھیں نہ ہوئیں بند ہماری

    ایسے ترے اک طالب دیدار ہمیں تھے

    ٹھنڈے کئے غیروں کے دل اور ہم کو جلایا

    اک تھے تو محبت کے گنہ گار ہمیں تھے

    ملتے ہی لب یار سے لب دل نکل آیا

    مارا جسے عیسیٰ نے وہ بیمار ہمیں تھے

    تم غیروں سے ڈر ڈر کے لپٹ جاتے تھے پیہم

    کل رات کو نالاں پس دیوار ہمیں تھے

    سب راز تعشقؔ سے بیاں ہوتے تھے دل کے

    پہلے ترے اک محرم اسرار ہمیں تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY