مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی

حکیم ناصر

مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی

حکیم ناصر

MORE BYحکیم ناصر

    مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی

    میری مدہوشی مرے جام سے آگے نہ بڑھی

    دل کی حسرت دل ناکام سے آگے نہ بڑھی

    زندگی موت کے پیغام سے آگے نہ بڑھی

    وہ گئے گھر کے چراغوں کو بجھا کر میرے

    پھر ملاقات مری شام سے آگے نہ بڑھی

    رہ گئی گھٹ کے تمنا یوں ہی دل میں اے دوست

    گفتگو اپنی ترے نام سے آگے نہ بڑھی

    وہ مجھے چھوڑ کے اک شام گئے تھے ناصرؔ

    زندگی اپنی اسی شام سے آگے نہ بڑھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY