میں اپنی آنکھ بھی خوابوں سے دھو نہیں پایا

خالد ملک ساحل

میں اپنی آنکھ بھی خوابوں سے دھو نہیں پایا

خالد ملک ساحل

MORE BY خالد ملک ساحل

    میں اپنی آنکھ بھی خوابوں سے دھو نہیں پایا

    میں کیسے دوں گا زمانے کو جو نہیں پایا

    شب فراق تھی موسم عجیب تھا دل کا

    میں اپنے سامنے بیٹھا تھا رو نہیں پایا

    مری خطا ہے کہ میں خواہشوں کے جنگل میں

    کوئی ستارہ کوئی چاند بو نہیں پایا

    حسین پھولوں سے دیوار و در سجائے تھے

    بس ایک برگ دل آسا پرو نہیں پایا

    چمک رہے تھے اندھیرے میں سوچ کے جگنو

    میں اپنی یاد کے خیمے میں سو نہیں پایا

    نہیں ہے حرف تسلی مگر کہوں ساحلؔ

    نہیں جو پایا کہیں یار تو نہیں پایا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY