میں دھند فضاؤں میں اڑا بھی ہوں گرا بھی

مدحت الاختر

میں دھند فضاؤں میں اڑا بھی ہوں گرا بھی

مدحت الاختر

MORE BYمدحت الاختر

    میں دھند فضاؤں میں اڑا بھی ہوں گرا بھی

    تھی قوت پرواز بھی اور خوف قضا بھی

    میں اپنے ہی زندان طلسمی کا زبوں تھا

    ہر چند تری شعبدہ کاری سے بچا بھی

    لائی ہے کہاں مجھ کو طبیعت کی دو رنگی

    دنیا کا طلب گار بھی دنیا سے خفا بھی

    پا بستۂ زنجیر ہوا چھوٹ گئے ہیں

    موقوف ہوا سلسلۂ قتل نوا بھی

    خوابیدہ لہو بازوئے پرواز میں جاگا

    روشن ہوئی دھندلائی ہوئی زرد فضا بھی

    آنکھیں ہیں مگر خواب سے محروم ہیں مدحتؔ

    تصویر کا رشتہ نہیں رنگوں سے ذرا بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY