میں سمندر تھا مجھے چین سے رہنے نہ دیا

اظہر عنایتی

میں سمندر تھا مجھے چین سے رہنے نہ دیا

اظہر عنایتی

MORE BYاظہر عنایتی

    میں سمندر تھا مجھے چین سے رہنے نہ دیا

    خامشی سے کبھی دریاؤں نے بہنے نہ دیا

    اپنے بچپن میں جسے سن کے میں سو جاتا تھا

    میرے بچوں نے وہ قصہ مجھے کہنے نہ دیا

    کچھ طبیعت میں تھی آوارہ مزاجی شامل

    کچھ بزرگوں نے بھی گھر میں مجھے رہنے نہ دیا

    سربلندی نے مری شہر شکستہ میں کبھی

    کسی دیوار کو سر پر مرے ڈھنے نہ دیا

    یہ الگ بات کہ میں نوح نہیں تھا لیکن

    میں نے کشتی کو غلط سمت میں بہنے نہ دیا

    بعد میرے وہی سردار قبیلہ تھا مگر

    بزدلی نے اسے اک وار بھی سہنے نہ دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY