میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں

شکیب جلالی

میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں

شکیب جلالی

MORE BY شکیب جلالی

    میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں

    مرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میں

    سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح

    دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں

    صحرا کی بود و باش ہے اچھی نہ کیوں لگے

    سوکھی ہوئی گلاب کی ٹہنی گلاس میں

    چمکے نہیں نظر میں ابھی نقش دور کے

    مصروف ہوں ابھی عمل انعکاس میں

    دھوکے سے اس حسیں کو اگر چوم بھی لیا

    پاؤ گے دل کا زہر لبوں کی مٹھاس میں

    تارہ کوئی ردائے شب ابر میں نہ تھا

    بیٹھا تھا میں اداس بیابان یاس میں

    جوئے روان دشت ابھی سوکھنا نہیں

    ساون ہے دور اور وہی شدت ہے پیاس میں

    رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا

    پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں

    کانٹوں کی باڑ پھاند گیا تھا مگر شکیبؔ

    رستہ نہ مل سکا مجھے پھولوں کی باس میں

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat Shakeb Jamali (Pg. 121)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY